Tanzeem ul Madaris Solved Past Paper 2023 | PDF (طلباء کے لیے) عامہ سال اول


کلاس: الشہادۃ الثانویہ العامه (میٹرک سال اول)

پہلا پرچہ: قرآن مجید و تجوید (سال 2023)


حصہ اول: قرآن مجید

سوال نمبر 1: جز (1) أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ أَنْفُسَكُمْ وَأَنْتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
ترجمہ: کیا تم لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہو اور اپنی جانوں کو بھول جاتے ہو حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو، تو کیا تم عقل نہیں رکھتے؟
سوال نمبر 1: جز (2) إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَا تُسْأَلُ عَنْ أَصْحَابِ الْجَحِيمِ
ترجمہ: بیشک ہم نے تمہیں حق کے ساتھ بھیجا خوشخبری سناتا اور ڈر سناتا اور تم سے دوزخ والوں کے بارے میں نہ پوچھا جائے گا۔
سوال نمبر 1: جز (3) بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَإِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ
ترجمہ: وہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس سے یہی فرماتا ہے کہ “ہو جا” تو وہ ہو جاتا ہے۔
سوال نمبر 1: جز (4) أُولَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَى فَمَا رَبِحَتْ تِجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ
ترجمہ: یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی، تو نہ ان کی سوداگری نے کچھ نفع دیا اور نہ وہ راہ پانے والے تھے۔
سوال نمبر 1: جز (5) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
ترجمہ: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے۔
سوال نمبر 1: جز (6) وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
ترجمہ: اور ان میں سے کوئی یوں کہتا ہے کہ اے رب ہمارے! ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور ہمیں آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔

سوال نمبر 2: درج ذیل الفاظِ قرآنیہ کے معانی لکھیں۔
1. مَتَاعٌ معنی: برتنے کی چیز / پونجی۔
2. خِزْيٌ معنی: رسوائی۔
3. التَّوَّابُ معنی: بہت توبہ قبول کرنے والا۔
4. الْقَوَاعِدَ معنی: بنیادیں۔
5. صِبْغَةً معنی: رنگ۔
6. شَعَائِرُ معنی: نشانیاں۔
7. لَا تَحْلِقُوا معنی: تم سر نہ منڈواؤ۔
8. مُسْتَقَرٌّ معنی: ٹھکانہ / رہنے کی جگہ۔
9. الْحَرْثَ معنی: کھیتی۔
10. غُلْفٌ معنی: غلافوں میں / پردوں میں۔

حصہ دوم: تجوید

سوال نمبر 3: (الف) علمِ تجوید کی تعریف، موضوع اور غرض تحریر کریں۔
جواب: تعریف: ہر حرف کو اس کے مخرج سے تمام صفات کے ساتھ ادا کرنا۔ موضوع: حروفِ تہجی۔ غرض: قرآن پڑھنے میں زبان کو غلطی سے بچانا۔
سوال نمبر 3: (ب) خوش آوازی سے قرآن پڑھنے کی فضیلت اور حکم قلمبند کریں۔
جواب: حکم: مستحب اور پسندیدہ ہے۔ فضیلت: اچھی آواز قرآن کی زینت ہے اور اس سے دل میں رقت پیدا ہوتی ہے۔
سوال نمبر 3: (ج) درج ذیل حروف کے مخارج تحریر کریں۔
1. ص (صاد) مخرج: زبان کی نوک جب اوپر اور نیچے کے دونوں دانتوں کے اندرونی کنارے سے لگے۔
2. ق (قاف) مخرج: زبان کی جڑ جب اوپر کے تالو کے نرم حصے سے لگے۔
3. ع (عین) مخرج: حلق کا درمیانی حصہ۔
4. ط (طا) مخرج: زبان کی نوک جب اوپر کے سامنے والے دانتوں کی جڑ سے لگے۔
5. ن (نون) مخرج: زبان کا کنارہ جب اوپر کے دانتوں کے مسوڑھوں سے لگے۔

کلاس: الشہادۃ الثانویہ العامه (میٹرک سال اول)

دوسرا پرچہ: عقائد و فقہ (سال 2023)


حصہ اول: عقائد

سوال نمبر 1: (الف) ہدایت اور گمراہی کون دیتا ہے؟
جواب: ہدایت اور گمراہی درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے۔
سوال نمبر 1: (ب) حادث اور قدیم کی تعریف کریں۔
جواب: قدیم وہ ہے جو ہمیشہ سے ہو (صرف اللہ کی ذات و صفات)، اور حادث وہ ہے جو پہلے نہ ہو اور بعد میں پیدا کیا گیا ہو (ساری کائنات)۔
سوال نمبر 1: (ج) اللہ تعالیٰ کی خالقیت کا معنی تحریر کریں۔
جواب: خالقیت کا معنی ہے پیدا کرنا؛ یعنی کائنات کی ہر چیز کو عدم سے وجود میں لانے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔
سوال نمبر 1: (ہ) حقیقتِ روزی کون دیتا ہے؟
جواب: حقیقت میں روزی دینے والی ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے، وہی “رزاق” ہے۔
سوال نمبر 1: (و) کون کون سے لوگ شفاعت کریں گے؟
جواب: نبی کریم ﷺ (سب سے پہلے)، دیگر انبیاء، ملائکہ، علماء، شہداء، حفاظ اور اللہ کے نیک بندے شفاعت کریں گے۔

سوال نمبر 2: (الف) رسول کا معنی کیا ہے؟
جواب: رسول کا لغوی معنی “پیغام لانے والا” ہے، اور شرعی اصطلاح میں وہ بشر ہے جسے اللہ نے نئی کتاب یا شریعت دے کر بندوں کی ہدایت کے لیے بھیجا ہو۔
سوال نمبر 2: (ب) سب سے پہلے نبی کون تھے؟
جواب: سب سے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام تھے۔
سوال نمبر 2: (ج) معصوم کون ہیں؟
جواب: معصوم صرف انبیاء کرام اور فرشتے ہوتے ہیں، جن سے گناہ ہونا شرعی طور پر ناممکن ہے۔
سوال نمبر 2: (د) معجزے اور کرامت میں کیا فرق ہے؟
جواب: نبی کے ہاتھ سے جو خلافِ عادت بات ظاہر ہو اسے معجزہ کہتے ہیں، اور ولی کے ہاتھ سے جو ظاہر ہو اسے کرامت کہتے ہیں۔

حصہ دوم: فقہ

سوال نمبر 3: (الف) کن کن چیزوں سے غسل فرض ہوتا ہے؟
جواب: احتلام (سوتے میں انزال)، صحبت (ہم بستری)، حیض اور نفاس (خواتین کے لیے مخصوص ایام) کے ختم ہونے پر غسل فرض ہوتا ہے۔
سوال نمبر 3: (ہ) نجاستِ غلیظہ اور خفیفہ میں کیا فرق ہے؟
جواب: غلیظہ وہ بھاری ناپاکی ہے جس کا حکم سخت ہو (جیسے انسان کا پیشاب)، اور خفیفہ وہ ہلکی ناپاکی ہے جس کا حکم کچھ نرم ہو (جیسے حلال پرندوں کی بیٹ)۔
سوال نمبر 3: (و) کافر کے جوٹھے کا حکم کیا ہے؟
جواب: کافر کا جوٹھا پاک ہے (بشرطیکہ اس کے منہ میں کوئی ناپاکی نہ لگی ہو)، البتہ پرہیز کرنا بہتر ہے۔

سوال نمبر 4: (ب) مرد اور عورت پر کتنا ستر فرض ہے؟
جواب: مرد کا ستر ناف سے لے کر گھٹنوں کے نیچے تک ہے، اور عورت کا ستر (نماز کے لیے) چہرے، ہتھیلیوں اور قدموں کے علاوہ پورا جسم ہے۔
سوال نمبر 4: (ج) وطنِ اصلی اور عارضی کی تعریف کریں۔
جواب: وطنِ اصلی وہ جگہ ہے جہاں انسان پیدا ہوا یا مستقل سکونت اختیار کی، اور وطنِ عارضی وہ جگہ ہے جہاں مسافر نے عارضی طور پر (15 دن سے کم) قیام کیا۔
سوال نمبر 4: (د) چلتی گاڑی پر نماز کا حکم تحریر کریں۔
جواب: اگر چلتی گاڑی (ٹرین یا بس وغیرہ) میں قبلہ رخ ہو کر اور قیام کے ساتھ نماز پڑھنا ممکن ہو تو پڑھ لینی چاہیے، ورنہ رکنے کا انتظار کرے یا مجبوری میں اشارہ سے پڑھے اور بعد میں اعادہ کرے۔

کلاس: الشہادۃ الثانویہ العامه (میٹرک سال اول)

تیسرا پرچہ: علم الصرف (میزان و منشعب و صرفِ بھترال)


حصہ اول: میزان الصرف و منشعب
سوال نمبر 1: (الف) میزان الصرف کی روشنی میں فعل ماضی مجہول بنانے کا طریقہ تحریر کریں اور مثالیں بھی دیں۔
جواب: ماضی معروف کے پہلے صیغے کے “فا” کلمہ کو ضمہ (پیش) دیں اور “عین” کلمہ کو کسرہ (زیر) دیں، جیسے: “نَصَرَ” سے “نُصِرَ” (مدد کیا گیا وہ ایک مرد)۔
سوال نمبر 1: (ب) ماضی قریب، ماضی بعید اور ماضی استمراری بنانے کا طریقہ مثالیں دے کر لکھیں۔
جواب: ماضی قریب: ماضی مطلق کے شروع میں “قَدْ” بڑھانے سے بنتی ہے، جیسے: “قَدْ نَصَرَ”۔ ماضی بعید: ماضی مطلق کے شروع میں لفظ “كَانَ” بڑھانے سے بنتی ہے، جیسے: “كَانَ نَصَرَ”۔ ماضی استمراری: مضارع کے شروع میں “كَانَ” لگانے سے بنتی ہے، جیسے: “كَانَ يَنْصُرُ”۔

سوال نمبر 2: (الف) مضارع معروف اور مضارع مجہول بنانے کا طریقہ سپردِ قلم کریں۔
جواب: مضارع معروف: ماضی کے شروع میں حروفِ اتین (ا، ت، ی، ن) میں سے کوئی حرف لگائیں، فا کلمہ ساکن اور آخری حرف کو ضمہ دیں، جیسے: “نَصَرَ” سے “يَنْصُرُ”۔ مضارع مجہول: علامتِ مضارع کو ضمہ (پیش) اور عین کلمہ کو فتحہ (زبر) دیں، جیسے: “يُنْصَرُ”۔
سوال نمبر 2: (ب) رباعی مزید فیہ کی تعریف مثال دے کر کریں نیز ثلاثی مزید فیہ بے ہمزہ وصل کے ابواب کے نام لکھیں۔
جواب: رباعی مزید فیہ: وہ فعل جس کے ماضی کے پہلے صیغے میں چار حرفِ اصلی ہوں اور کچھ زائد حروف بھی ہوں، جیسے: “تَدَحْرَجَ”۔ ثلاثی مزید فیہ بے ہمزہ وصل کے ابواب: 1. باب افعال 2. باب تفعیل 3. باب مفاعلہ 4. باب تفعل 5. باب تفاعل۔

سوال نمبر 3: (الف) اسم فاعل بنانے کا طریقہ بیان کریں نیز اسم مفعول کی گردان تحریر کریں۔
جواب: اسم فاعل کا طریقہ: ثلاثی مجرد سے “فَاعِلٌ” کے وزن پر آتا ہے، جیسے: “نَاصِرٌ”۔ اسم مفعول کی گردان: مَنْصُوْرٌ، مَنْصُوْرَانِ، مَنْصُوْرُوْنَ، مَنْصُوْرَةٌ، مَنْصُوْرَتَانِ، مَنْصُوْرَاتٌ۔

حصہ دوم: صرفِ بھترال

سوال نمبر 4: (الف) درج ذیل عبارت کا ترجمہ کریں نیز عبارت میں مذکور قانون کی مثالیں بھی دیں: “ہر نون تنوین وقت دخول الف ولام و اضافت و نون تثنیه و جمع بوقت اضافت ساقط میشود”
ترجمہ: ہر نونِ تنوین “الف لام” کے داخل ہونے کے وقت اور “اضافت” کے وقت، اور تثنیہ و جمع کا نون “اضافت” کے وقت گر جاتا ہے۔
مثالیں: تنوین کا گرنا: “رَجُلٌ” سے “اَلرَّجُلُ”۔ تثنیہ کا نون گرنا: “غُلَامَانِ زَیْدٍ” سے “غُلَامَا زَیْدٍ”۔
سوال نمبر 4: (ب) علمِ صرف کی تعریف، موضوع اور غرض و غایت بیان کریں۔
جواب: تعریف: وہ علم جس سے کلمات کی گردان اور تبدیلی کے قاعدے معلوم ہوں۔ موضوع: “کلمہ”۔ غرض: صیغوں کے بنانے اور پڑھنے میں غلطی سے بچنا۔

سوال نمبر 5: (ب) درج ذیل میں سے تین کی تعریفات مثالیں دے کر سپردِ قلم کریں۔
1. صحیح جواب: وہ کلمہ جس کے حروفِ اصلی میں حرفِ علت، ہمزہ اور ایک جنس کے دو حروف نہ ہوں، جیسے: “ضَرَبَ”۔
2. مہموز جواب: وہ کلمہ جس کے حروفِ اصلی میں سے کوئی ایک حرف “ہمزہ” ہو، جیسے: “اَكَلَ”۔
3. امر جواب: وہ فعل جس میں کسی کام کا حکم دیا جائے، جیسے: “اُنْصُرْ”۔

سوال نمبر 6: (ب) عدد اور میزان والا قانون مثالوں سمیت تحریر کریں۔
جواب: عدد والا قانون: ہر وہ “واؤ” یا “یاء” جو الفِ زائدہ کے بعد اسمِ فاعل کے صیغے میں واقع ہو، اسے ہمزہ سے بدلنا واجب ہے، جیسے: “قَاوِلٌ” سے “قَائِلٌ”۔ میزان والا قانون: ہر وہ “واؤ” جو ساکن ہو اور اس سے پہلے کسرہ (زیر) ہو، اسے “یاء” سے بدلنا واجب ہے، جیسے: “مِوْزَانٌ” سے “مِيْزَانٌ”۔

کلاس: الشہادۃ الثانویہ العامه (میٹرک سال اول)

چوتھا پرچہ: علم النحو (نحو میر و نظم مائۃ عامل)


حصہ اول: نحو میر

سوال نمبر 1: (الف) جملہ خبریہ اور جملہ انشائیہ کی تعریفات اور اقسام تحریر کریں اور مثالیں بھی دیں۔
جواب: جملہ خبریہ وہ ہے جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے، اس کی دو اقسام ہیں: جملہ اسمیہ (جیسے: زَيْدٌ عَالِمٌ) اور جملہ فعلیہ (جیسے: ضَرَبَ زَيْدٌ). جملہ انشائیہ وہ ہے جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا نہ کہا جا سکے، اس کی اقسام میں امر، نہی، استفہام وغیرہ شامل ہیں، جیسے: اِضْرِبْ (تو مار).
سوال نمبر 1: (ب) نحو میر کی روشنی میں فعل کی علامات مثالیں دے کر تحریر کریں۔
جواب: فعل کی علامات یہ ہیں: 1. شروع میں “قد” ہونا (جیسے: قَدْ ضَرَبَ). 2. شروع میں “س” ہونا (جیسے: سَيَضْرِبُ). 3. جزم کا ہونا (جیسے: لَمْ يَضْرِبْ). 4. ضمیرِ مرفوع متصل کا ہونا (جیسے: ضَرَبْتُ). 5. امر یا نہی ہونا۔

سوال نمبر 2: (الف) معرفہ کی تعریف اور اقسام مثالوں سمیت سپردِ قلم کریں۔
جواب: تعریف: وہ اسم جو کسی خاص چیز پر دلالت کرے۔ اس کی سات اقسام ہیں: 1. مضمرات (مثال: هُوَ). 2. اعلام (مثال: زَيْدٌ). 3. اسمائے اشارہ (مثال: هذَا). 4. اسمائے موصولہ (مثال: اَلَّذِي). 5. معرف باللام (مثال: اَلرَّجُلُ). 6. مضاف بہ معرفہ (مثال: غُلَامُ زَيْدٍ). 7. معرف بالنداء (مثال: يَا رَجُلُ).
سوال نمبر 2: (ج) مؤنث لفظی و حقیقی کی تعریفات تحریر کریں۔
جواب: مؤنث حقیقی: جس کے مقابلے میں جاندار نر ہو، جیسے: اِمْرَاَةٌ (عورت). مؤنث لفظی: جس کے مقابلے میں جاندار نر نہ ہو لیکن اس میں تائے تانیث ہو، جیسے: ظُلْمَةٌ (اندھیرا).

سوال نمبر 3: (الف) درج ذیل میں سے تین کی تعریفات مثالوں سمیت تحریر کریں: مبنی، مرکب بنائی، غیر منصرف۔
جواب:
  1. مبنی: وہ کلمہ جس کا آخری حرف عامل کے بدلنے سے نہ بدلے، جیسے: هؤُلَاءِ. 2. مرکب بنائی: دو اسموں کو ملا کر ایک کر دیا جائے اور دوسرا اسم کسی حرف کو شامل ہو، جیسے: اَحَدَ عَشَرَ. 3. غیر منصرف: وہ اسم جس میں اسبابِ منعِ صرف میں سے دو سبب یا ایک ایسا سبب پایا جائے جو دو کے قائم مقام ہو، جیسے: اَحْمَدُ.

حصہ دوم: نظم مائۃ عامل
سوال نمبر 4: (الف) نظم مائۃ عامل کی روشنی میں افعالِ ناقصہ بصورتِ شعر لکھیں۔
جواب: شعر: كَانَ و صَارَ و بَاتَ و اَضْحَی — اَمْسٰی و ظَلَّ و لَیْسَ و مَادَامَ و مَا زَالَ و مَا بَرِحَ و مَا فَتِیءَ — و مَا انْفَکَّ اِیں جُملہ داں اے نیک فرجام
سوال نمبر 4: (ب) عواملِ قیاسیہ کتنے اور کون کونسے ہیں؟
جواب: عواملِ قیاسیہ سات (7) ہیں: 1. فعل (مطلقاً). 2. اسم فاعل۔ 3. اسم مفعول۔ 4. صفتِ مشبہ۔ 5. اسمِ تفضیل۔ 6. مصدر۔ 7. اسم مضاف۔
سوال نمبر 4: (ج) حروفِ مشبہ بالفعل کسے کہتے ہیں اور کیا عمل کرتے ہیں؟
جواب: یہ وہ حروف ہیں جو فعل کے مشابہ ہوتے ہیں (اِنَّ، اَنَّ، كَاَنَّ، لٰكِنَّ، لَيْتَ، لَعَلَّ). ان کا عمل یہ ہے کہ یہ اپنے اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتے ہیں، جیسے: اِنَّ زَيْدًا قَائِمٌ.
سوال نمبر 4: (ہ) فعل مضارع کو نصب دینے والے حروف شعر کی صورت میں لکھیں۔
جواب: شعر: “اَنْ” و “لَنْ” و “کَیْ” و “اِذَنْ” اے ہوشمند — بر مضارع نصب مے آرد بہ پند

کلاس: الشہادۃ الثانویہ العامه (میٹرک سال اول)

پانچواں پرچہ: عربی ادب (سال 2023)


سوال نمبر 1: (الف) درج ذیل میں سے پانچ جملوں کا ترجمہ کریں۔
(1) أُغْلِقُ الْكِتَابَ ترجمہ: میں کتاب بند کرتا ہوں۔
(2) يَدِي عَلَى رَأْسِي ترجمہ: میرا ہاتھ میرے سر پر ہے۔
(3) هَذَا قَلَمُ صَدِيقِي ترجمہ: یہ میرے دوست کا قلم ہے۔
(4) أَنَا عِنْدَ الشَّجَرَةِ ترجمہ: میں درخت کے پاس ہوں۔
(5) الْإِسْلَامُ دِيْنِي ترجمہ: اسلام میرا دین ہے۔
(6) الْوَرَقَةُ تَحْتَ قَدَمِي ترجمہ: کاغذ (یا پتہ) میرے قدم کے نیچے ہے۔
(7) الْأَرْنَبُ حَيَوَانٌ صَغِيرٌ ترجمہ: خرگوش ایک چھوٹا جانور ہے۔

سوال نمبر 1: (ب) جز نمبر (1) کا ترجمہ کریں۔
مُحَمَّدٌ تِلْمِيذٌ نَجِيبٌ وَالِدُهُ رَجُلٌ كَرِيمٌ ، وَالِدَتُهُ امْرَأَةٌ صَالِحَةٌ… ترجمہ: محمد ایک لائق شاگرد ہے، اس کے والد ایک شریف آدمی ہیں اور اس کی والدہ ایک نیک خاتون ہیں۔ اس کے والد کا نام عبداللہ ہے اور اس کی والدہ کا نام اسماء ہے۔ عبداللہ اور اسماء کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ بڑا بیٹا محمد ہے اور چھوٹے کا نام زبیر ہے۔

سوال نمبر 2: (الف) درج ذیل میں سے تین جملوں کی عربی بنائیں۔
(1) خالد دروازہ کھولتا ہے۔ عربی: خَالِدٌ يَفْتَحُ الْبَابَ۔
(2) اپنا ہاتھ آنکھ پر رکھ۔ عربی: ضَعْ يَدَكَ عَلَى الْعَيْنِ۔
(3) زمین میرے قدم کے نیچے ہے۔ عربی: الْأَرْضُ تَحْتَ قَدَمِي۔
(4) تیرا حال کیسا ہے؟ عربی: كَيْفَ حَالُكَ؟

سوال نمبر 2: (ب) خالی جگہیں پر کریں۔
(1) لِمَنِ الْمُلْكُ [الْيَوْمَ]؟ (2) الْخَارِطَةُ [عَلَى] الْجِدَارِ۔ (3) الْفِيْلُ [حَيَوَانٌ] كَبِيْرٌ۔ (4) هَذَا [وَلَدُ] عَبْدِ اللهِ۔ (5) أَنَا [أَمَامَ] الْبَابِ۔

سوال نمبر 3: (ب) الفاظ کے معانی تحریر کریں۔
1. حِصَانٌ معنی: گھوڑا۔
2. أَبْيَضُ معنی: سفید۔
3. جَارٌ معنی: پڑوسی۔
4. مِنْضَدَةٌ معنی: میز۔
5. بَعِيدٌ معنی: دور۔

سوال نمبر 4: (الف) سوالات کے عربی میں جوابات دیں۔
(1) أَيْنَ يَدُكَ الْيُمْنَى؟ جواب: يَدِي الْيُمْنَى عَلَى الْكِتَابِ۔ (یا کوئی بھی جگہ)
(3) مَنْ نَبِيُّكَ؟ جواب: نَبِيِّي مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ۔
(5) هَلِ الْفِيْلُ حَيَوَانٌ صَغِيْرٌ؟ جواب: لَا، الْفِيْلُ حَيَوَانٌ كَبِيْرٌ۔

سوال نمبر 4: (ب) ایک سے دس تک گنتی عربی میں لکھیں۔
جواب: وَاحِدٌ (1)، اِثْنَانِ (2)، ثَلَاثَةٌ (3)، أَرْبَعَةٌ (4)، خَمْسَةٌ (5)، سِتَّةٌ (6)، سَبْعَةٌ (7)، ثَمَانِيَةٌ (8)، تِسْعَةٌ (9)، عَشَرَةٌ (10)۔

کلاس: الشہادۃ الثانویہ العامه (میٹرک سال اول)

چھٹا پرچہ: جنرل سائنس و مطالعہ پاکستان (سال 2023)


حصہ اول: جنرل سائنس

سوال نمبر 1: (الف) خالی جگہ نمبر 1: آسٹرولوجی وہ علم ہے جس میں ۔۔۔۔۔ پر بحث کی جاتی ہے۔
جواب: ستاروں (اور انسانی زندگی پر ان کے اثرات)۔
سوال نمبر 1: (الف) خالی جگہ نمبر 2: زندگی کی ابتدا۔۔۔۔۔ سے ہوئی؟
جواب: پانی (یا خلیے)۔
سوال نمبر 1: (الف) خالی جگہ نمبر 3: مسلمان سائنس دان ۔۔۔۔۔۔ کو کیمیا کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔
جواب: جابر بن حیان۔
سوال نمبر 1: (الف) خالی جگہ نمبر 4: ایڈز کے وائرس کو ۔۔۔۔۔۔۔ کہتے ہیں۔
جواب: ایچ آئی وی (HIV)۔
سوال نمبر 1: (الف) خالی جگہ نمبر 5: خام ڈیٹا کو مفید معلومات میں بدلنے والی مشین کو ۔۔۔۔۔ کہتے ہیں۔
جواب: کمپیوٹر۔

سوال نمبر 1: (ب) درست یا غلط نمبر 1: بوعلی سینا طب کے بانیوں میں سے تھے۔
جواب: درست۔
سوال نمبر 1: (ب) درست یا غلط نمبر 2: ایڈز چھوت کی بیماری نہیں ہے۔
جواب: درست۔
سوال نمبر 1: (ب) درست یا غلط نمبر 3: لفظ سائنس لاطینی زبان سے اخذ کیا گیا ہے۔
جواب: درست۔
سوال نمبر 1: (ب) درست یا غلط نمبر 4: جابر بن حیان فزکس کے ماہر تھے۔
جواب: غلط (وہ کیمیا دان تھے)۔
سوال نمبر 1: (ب) درست یا غلط نمبر 5: تپ دق لا علاج مرض ہے۔
جواب: غلط۔

سوال نمبر 3: بیماریاں پھیلانے والے مختلف ذرائع کے نام لکھیں۔
جواب: بیماریاں پھیلانے والے بڑے ذرائع میں ہوا، آلودہ پانی، حشرات (مچھر، مکھیاں)، آلودہ غذا اور متاثرہ شخص سے براہِ راست رابطہ شامل ہیں۔

حصہ دوم: مطالعہ پاکستان

سوال نمبر 5: (الف) خالی جگہ نمبر 1: علامہ محمد اقبال نے ۔۔۔۔۔ میں خطبہ الہ آباد دیا۔
جواب: 1930ء۔
سوال نمبر 5: (الف) خالی جگہ نمبر 2: اسلامی نظریہ حیات کی بنیاد۔۔۔۔۔ پر ہے۔
جواب: قرآن و سنت (یا کلمہ طیبہ)۔
سوال نمبر 5: (الف) خالی جگہ نمبر 3: انگریز ۔۔۔۔۔ کی غرض سے برصغیر میں داخل ہوئے ۔
جواب: تجارت۔
سوال نمبر 5: (الف) خالی جگہ نمبر 4: کالا پانی میں حضرت علامہ۔۔۔۔۔ کو سزادی گئی۔
جواب: فضلِ حق خیر آبادی رحمہ اللہ۔
سوال نمبر 5: (الف) خالی جگہ نمبر 5: چین کے تعاون سے مکمل ہونے والی شاہراہ کا نام ۔۔۔۔۔ ہے۔
جواب: شاہراہِ قراقرم۔

سوال نمبر 5: (ب) جز نمبر 1: دو قومی نظریہ سے کیا مراد ہے؟
جواب: دو قومی نظریے سے مراد یہ ہے کہ برصغیر میں دو بڑی قومیں (ہندو اور مسلمان) آباد ہیں، جن کا مذہب، تہذیب اور طریقہ زندگی ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے، اس لیے وہ ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔
سوال نمبر 8: قرار دادِ مقاصد اور اس کی اہمیت پر نوٹ لکھیں۔
جواب: قراردادِ مقاصد 1949ء میں منظور ہوئی، جس کے مطابق اقتدارِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور پاکستان میں اسلامی قوانین نافذ کیے جائیں گے۔ یہ پاکستان کے تمام دساتیر کے لیے ایک بنیاد اور سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *